Photo Credit: Ambreen Sikander-2016-Washington D.C, Outside Whitehouse I once asked the cobbler, can you fix the hole in the soul? I walked into his small, dusty shop, with shoes that were not broken, but with a heart that was. He was an old man, hammering a sole, surrounded by leather and lost journeys. I sat down and whispered, "Cobbler, you fix what is torn and worn, you stitch the leather when it gives up. Can you fix the hole in the soul?"He looked at me and smiled, a tired, knowing smile. He said, "My child, I can fix a shoe that has walked too far. I can put a new sole where the road has eaten the old one. But the hole in the soul ah, that is a different craft. That hole is not made by roads or stones. It is made by people who left in the middle of the journey. By words that were promised and never kept. By love that stayed for a season and left like fall. No thread can stitch it. No glue can hold it. You cannot hammer it shut. You just have to learn...
میں اکثر اسے کہا کرتی تھی کہ تم کھانا نہیں کھاتے، ہوم ورک بھی ٹائم پر نہیں کرتے، ایسے تو گندے بچے کیا کرتے ہیں، جو بچے ایسا کرتے ہیں، ان کے پاس باگڑ بلے آجاتے ہیں، جن کی شکلیں خوف ناک، لمبے بال، بڑے بڑے دانت ہوتے ہیں، وہ پہاڑوں سے اترتے ہیں اور آکر بچوں کو باندھے دیتے ہیں، انہیں مارتے ہیں، ان کو زخم لگاتے ہیں، انہیں معصوم معصوم ننھے بچوں پر ترس نہیں آتا، ان کے دل کسی آہ و معافی اور مان سے نہیں پگھلتے۔ وہ بس بچوں کو اپنے غصے کا نشانہ بناتے ہیں اور تکلیف دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں، تو کیا تم چاہو گے کہ ایسے باگڑ بلے تمھارے پاس آئیں اور تمہیں دکھ اور تکلیف دیں؟ یہ تمام باتیں سن کر وہ چھلانگ لگا کر میری آغوش میں آجاتا، اپنا منہ میرے سینے میں چھپا کر سسکیاں بھرتا اور رونے لگتا، مجھے گلے لگاتا اور پیار بھری معصوم آواز میں مخاطب کرکے کہتا "امی جان میں تو اچھا بچہ ہوں، میں اب کھانا بھی کھاؤں گا اور ٹائم سے ہوم ورک بھی کرلوں گا"۔ اس کی باتیں سن کر اور پیار بھرے انداز میں میری جانب لپکنے پر میرا دل پسج جاتا اور میں تڑپ کر اسے گلے لگا لیتی، وہ اکثر ڈر کر مجھ سے پوچھا کرتا "امی جان ی...