میں اکثر اسے کہا کرتی تھی کہ تم کھانا نہیں کھاتے، ہوم ورک بھی ٹائم پر نہیں کرتے، ایسے تو گندے بچے کیا کرتے ہیں، جو بچے ایسا کرتے ہیں، ان کے پاس باگڑ بلے آجاتے ہیں، جن کی شکلیں خوف ناک، لمبے بال، بڑے بڑے دانت ہوتے ہیں، وہ پہاڑوں سے اترتے ہیں اور آکر بچوں کو باندھے دیتے ہیں، انہیں مارتے ہیں، ان کو زخم لگاتے ہیں، انہیں معصوم معصوم ننھے بچوں پر ترس نہیں آتا، ان کے دل کسی آہ و معافی اور مان سے نہیں پگھلتے۔ وہ بس بچوں کو اپنے غصے کا نشانہ بناتے ہیں اور تکلیف دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں، تو کیا تم چاہو گے کہ ایسے باگڑ بلے تمھارے پاس آئیں اور تمہیں دکھ اور تکلیف دیں؟ یہ تمام باتیں سن کر وہ چھلانگ لگا کر میری آغوش میں آجاتا، اپنا منہ میرے سینے میں چھپا کر سسکیاں بھرتا اور رونے لگتا، مجھے گلے لگاتا اور پیار بھری معصوم آواز میں مخاطب کرکے کہتا "امی جان میں تو اچھا بچہ ہوں، میں اب کھانا بھی کھاؤں گا اور ٹائم سے ہوم ورک بھی کرلوں گا"۔ اس کی باتیں سن کر اور پیار بھرے انداز میں میری جانب لپکنے پر میرا دل پسج جاتا اور میں تڑپ کر اسے گلے لگا لیتی، وہ اکثر ڈر کر مجھ سے پوچھا کرتا "امی جان ی...
مقامی زبان میں اسے کہتے تو سیاہ گلاب ہیں، مگر یہ برف کا ایک ایسا گلاب جس کا سن کر ہی آپ سردی سے ٹھٹھرنے لگیں، جی ہاں، سیاچن۔ ہماری شادی کے ایک مہینے بعد ہی ان کی سیاچن کے علاقے گیاری کی پوسٹنگ آگئی تھی، وہ تو خوش تھے، مگر مجھے جانے کیوں ایک مہینے پہلے سے ہی اپنے چاروں جانب برف ہی برف نظر آنے لگی، کہتے ہیں کہ فوجی کی بیوی کو ہر وقت سامان باندھنے کی پریکٹس کرنی ضروری ہے، اللہ جانے کب ، کیوں، کیسے اور کہاں کا بلاوا آجائے،ہاں مگر شاید میں نے اس مقولے کو سنجیدگی سے نہ لیا، ایک مہینہ کب گزرا ، کیسے گزرا سمجھ ہی نہ آیا، پھر ایک روز ان کا بیگ تیار کیا، ضروری اشیاء ساتھ کیں، اور گاڑی آگئی، وہ سب سے ملے، گاڑی میں بیٹھے اور منزل مقصود کی جانب بڑھ گئے۔ مجھ سے وعدہ کرکے گئے تھے، ہر ہفتے نہ سہی مگر ہر مہینے خط ضرور لکھیں گے، مگر سیاچن جانے والے سب جانتے ہیں،کتنے لوگ زندہ واپس آتے ہیں، کچھ سبز ہلالی پرچم لہرا کر اور کچھ سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر، جاتے ہوئے گھر والوں سے ادھورے وعدے کرنے والے کہ ہم لوٹ آئیں گے!!،مختصرسامان کیساتھ چھوٹا بکسہ تیار کیا، یادوں کے نام پر فقظ تصاویر ...