امریکا کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں گزرا ایک ایک لمحہ خواب سے کم نہ
تھا، ، وہاں کی شامیں ہوں یا لمبی واک، خریداری کیلئے اکیلے مٹر گشت کرنا
ہو یا ریل بسوں کا سفر، کبھی سائے کے ساتھ ساتھ بھاگنا تو کبھی برستی
بوندوں کو پکڑنے کی کوشش، وہ ایک مہینے کا سفر میں شاید زندگی بھر بھلا نہ
سکوں۔ نہ کوئی دوست ہم سفر نہ رقیب جان ساتھ مگر ہجر و فراق کے تمام محاذ
یادوں کے سہارے اکیلئے ہی سر کیے۔
پہلے پیار سے جڑے اس شہر کی گویا ہر شے دلربا نکلی، کبھی ابھرتے ڈوبتے سورج میں اسے ڈھونڈنا
تو کبھی جورج ٹاؤن کے ساتھ بنی کریک پر بیتے لمحوں کو یاد کرنا
کبھی بارشوں میں بھیگ کر اسے محسوس کرنا
تو کبھی پوٹو میک دریا کنارے چہل قدمی کے وہ اوقات دھرانا
کبھی قمقموں اور روشنیوں سے بھری سڑکوں کو دیکھ کر آنکھیں بھرنا
تو کبھی بھوک مٹانے کیلئے بنے ان ریسٹورنٹ کو یاد کرنا
کبھی خزاں سے پہلے آتے پیڑوں پر پڑے خزاں کے رنگ
تو کبھی چمکتے چہروں میں وہ چہرہ تلاش کرنا۔۔
الغرض اس شہر نے اکیلے پن کا احساس ہونے نہ دیا، اور وہ سب کچھ دیا، جسے میں اپنے شہر میں دیکھنے کی تمنائی تھی۔ یادوں کے جھرمٹ اور سیر و تفریح کے درمیان شہر میں تاریخی خزانے بھی دیکھنے کے لائق تھے۔
کیپٹل ہل کی سیر ہو یا
یا ابراہم لنکن کی یادگار
جنگ اور فوجیوں کی یادگار ہوں
یا نیوزیم میں بھرے خزانے
صرف یہ ہی نہیں، بلکہ موم میں ڈھلے انسانی جسم جو حقیقت کا گمان دیتے ہیں
جیفرسن میموریل
اسمیتھ سن محل
قوس و قزح کے رنگوں سے سجے اس شہر کے سفر میں سب کچھ ملا،مگر وہ نہ ملا جو سب کچھ تھا۔ سماء
Comments
Post a Comment