Skip to main content

پیار کا پہلا شہر !! ۔۔۔۔



امریکا کے شہر واشنگٹن ڈی سی میں گزرا ایک ایک لمحہ خواب سے کم نہ تھا۔۔۔۔۔


کراچی سے اسلام آباد۔۔ اور وہاں سے ،دوحا اور دوحا سے طویل مسافت کے بعد ہم نے لینڈ کیا، پالیسی سازوں کے دفاعی شہر۔۔۔۔۔۔ ورجینیا میں۔۔۔ جہاں سے بائی روڈ ہم واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔۔۔۔




ڈی سی آمد تک، سڑک کے دونوں اطراف کے مناظر انتہائی دلکش تھے۔۔۔



 وہاں کی شامیں ہوں یا خنکی میں ڈوبی صبحیں۔۔۔




 خریداری کیلئے اکیلے مٹر گشت کرنا ہو یا ریل بسوں کا سفر، 


کبھی سائے کے ساتھ ساتھ بھاگنا

تو کبھی برستی بوندوں کو پکڑنے کی کوشش،

 وہ 3 مہینے کا سفر میں شاید زندگی بھر بھلا نہ سکوں۔

نہ کوئی دوست ہم سفر نہ رقیب جان ساتھ
مگر ہجر و فراق کے تمام محاذ یادوں کے سہارے اکیلئے ہی سر کیے۔




پہلے پیار سے جڑے اس شہر کی گویا ہر شے دلربا نکلی، کبھی ابھرتے ڈوبتے سورج میں اسے ڈھونڈنا




تو کبھی جورج ٹاؤن کے ساتھ بنی کریک پر بیتے لمحوں کو یاد کرنا


شکاگو آمد کے وقت لی گئی تصویر










کبھی بارشوں میں بھیگ کر اسے محسوس کرنا

تو کبھی پوٹو میک دریا کنارے چہل قدمی کے وہ اوقات دھرانا

کبھی قمقموں اور روشنیوں سے بھری سڑکوں کو دیکھ کر آنکھیں بھرنا




تو کبھی بھوک مٹانے کیلئے بنے ان ریسٹورنٹ کو یاد کرنا





کبھی خزاں سے پہلے آتے پیڑوں پر پڑے خزاں کے رنگ




تو کبھی چمکتے چہروں میں وہ چہرہ تلاش کرنا۔۔








الغرض اس شہر نے اکیلے پن کا احساس ہونے نہ دیا، اور وہ سب کچھ دیا، جسے میں اپنے شہر میں دیکھنے کی تمنائی تھی۔ 









یادوں کے جھرمٹ اور سیر و تفریح کے درمیان شہر میں تاریخی خزانے بھی دیکھنے کے لائق تھے۔









کیپٹل ہل کی سیر ہو یا


ابراہم لنکن کی یادگار



...جنگ اور فوجیوں کی یادگار ہوں







یا نیوزیم میں بھرے خزانے



..صرف یہ ہی نہیں، بلکہ موم میں ڈھلے انسانی جسم جو حقیقت کا گمان دیتے ہیں



جیفرسن میموریل


اسمیتھ سن محل اور اس جیسی انگنت جگہیں۔۔۔


قوس و قزح کے رنگوں سے سجے اس شہر کے سفر میں سب کچھ  ملا،مگر وہ نہ ملا جو سب کچھ تھا۔






Comments

Popular posts from this blog

Iran Under Fire: US and Israel Unleash Airstrikes, Killing Khamenei

The USA  is looking to topple the Islamic government in Iran The early 2026  United States and Israel War in Iran titled  Operation Epic Fury  aimed at dismantling Iran’s nuclear infrastructure and facilitating  regime change . These coordinated strikes resulted in the  death of Supreme Leader Ali Khamenei  and other high-ranking officials, prompting swift  retaliation against U.S. bases  and Gulf States. The conflict has caused significant  global economic disruption , specifically regarding volatile oil prices and the closure of the  Strait of Hormuz . While the Trump administration urged the Iranian public to overthrow the government. Experts warn that Iran’s  advanced weaponry and rugged geography  present a more formidable challenge than previous wars in Iraq or Afghanistan.  Since the Iranian Revolution , relations between the United States and Iran have remained tense, marked by sanctions, proxy confrontation...

Giant leap for womankind

Well, When you are used to living behind a veil, opening a store for your business isn’t going to happen. This is why women in Khyber Pakhtunkhwa have gone online. Take for example, Abida Jillani, who is a pioneer of home-based exhibitions. She runs a home-based shop called Durshal , which means “doorstep”. She started it 15 years ago and now, with the help of the internet, has a whole new client base: women who tend to stay at home. After her husband died, Jillani said that instead of staying home and wallowing in self-pity, she decided to work and support her family. She learnt how to sew and, with Rs5,000, started a business. She now holds exhibitions across the province. “A woman is soft, like a butterfly’s wings, and fine like steel. Once she blooms everyone will realize her true potential,” she says. Some areas as perfect for investment because they are considered the domain of women: bridal clothes, embroidery, block-printing, quilts and bed linen are some produ...

۔۔ پنجاب کی تازگی نگلتا اسموگ کا عفریت

۔۔۔۔ پاکستان  سمیت دنیا بھر کے ممالک میں آلودگی پر قابو پانا ایک چیلنج اور بڑا مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں اپنا اثر دکھا رہی ہیں ،کہیں سیلاب و طوفان اور زلزلے شدت اختیار کر گئے ہیں تو کہیں زراعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کو 4 طرح کی آلودگی کا سامنا ہے، نمبر 1 فضائی آلودگی، 2 زمینی آلودگی، 3 شور کی آلودگی اور 4 آبی آلودگی اول ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں چند ہی ایسے ممالک ہیں جہاں شہریوں کو صاف ستھری اور صحت مند آب و ہوا میسر ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کام کرنے والی این جی اوز اور اداروں کا کہنا ہے کہ دیگر بنیادی حقوق کی طرح صاف ہوا بھی عوام کا حق ہے۔ تاہم ہمارے ملک کے بڑے شہروں میں یہ حق ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے۔ لاہور ہی کی بات کرلیں جہاں کچھ روز قبل سرکاری میٹرز کے مطابق شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس یعنی فضا کا معیار ایک سو ترپن بتایا ہے، جو عالمی سطح پر انتہائی نقصان دہ ہے۔۔۔۔ ۔۔ پنجاب میں اسموگ کی شدت زیادہ کیوں؟ اسموگ کوئلے اور فصلوں کی بقایاجات کو جلانے سے پیدا ہونے والے ذرات سے بننی والی گیس ہوتی ہے جو گزرتے وقت میں زیادہ م...