میں اکثر اسے کہا کرتی تھی کہ تم کھانا نہیں کھاتے، ہوم ورک بھی ٹائم پر نہیں کرتے، ایسے تو گندے بچے کیا کرتے ہیں، جو بچے ایسا کرتے ہیں، ان کے پاس باگڑ بلے آجاتے ہیں، جن کی شکلیں خوف ناک، لمبے بال، بڑے بڑے دانت ہوتے ہیں، وہ پہاڑوں سے اترتے ہیں اور آکر بچوں کو باندھے دیتے ہیں، انہیں مارتے ہیں، ان کو زخم لگاتے ہیں، انہیں معصوم معصوم ننھے بچوں پر ترس نہیں آتا، ان کے دل کسی آہ و معافی اور مان سے نہیں پگھلتے۔ وہ بس بچوں کو اپنے غصے کا نشانہ بناتے ہیں اور تکلیف دے کر خوشی محسوس کرتے ہیں، تو کیا تم چاہو گے کہ ایسے باگڑ بلے تمھارے پاس آئیں اور تمہیں دکھ اور تکلیف دیں؟
یہ تمام باتیں سن کر وہ چھلانگ لگا کر میری آغوش میں آجاتا، اپنا منہ میرے سینے میں چھپا کر سسکیاں بھرتا اور رونے لگتا، مجھے گلے لگاتا اور پیار بھری معصوم آواز میں مخاطب کرکے کہتا "امی جان میں تو اچھا بچہ ہوں، میں اب کھانا بھی کھاؤں گا اور ٹائم سے ہوم ورک بھی کرلوں گا"۔
اس کی باتیں سن کر اور پیار بھرے انداز میں میری جانب لپکنے پر میرا دل پسج جاتا اور میں تڑپ کر اسے گلے لگا لیتی، وہ اکثر ڈر کر مجھ سے پوچھا کرتا "امی جان یہ باگڑ بلہ کیا ہوتا ہے؟؟یہ کہاں رہتا ہے، یہ کیا کھاتا ہے، کیا اس کے بھی بچے ہوتے ہیں؟ امی ابو ہوتے ہیں؟؟ بہن بھائی ہوتے ہیں؟" ۔
میں سن کر اس کی ساری باتیں اکثر ہنسی ہنسی میں ہی اڑا دیا کرتی تھی، (اس گھڑی سے بے خبر کہ ایک روز ایسے ہی باگڑ بلہ نما بھڑیئے انسانی بھیس میں پہاڑوں سے اتر کر شہر میں آئیں گے، اور ننھے فرشتوں پر قہر بن کر نازل ہونگے، خون کی ہولی کھیلیں گے اور اسی وحشی پن میں نست و نابود ہو جائیں گے، پھر شہر کی گلی گلی سے پھولوں کے جنازے اٹھیں گے)۔
وہ میری خوشیوں کا موجب تھا، زندگی کا سہارا، میری جان میرا سرمایہ میرا بیٹا تھا، جسے آج تک میں نے کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی، اپنے بابا کی تصویر کو گھنٹوں دیکھ کر وہ اکثر مجھے سے پوچھا کرتا، کیا بابا بھی گندے بچے بن گئے تھے جو باگڑ بلہ انہیں اپنے ساتھ لے گیا؟ میں بھی بڑا ہو کر بابا کی طرح فوجی بنوں گا مگر اتنا طاقت ور کہ باگڑ بلہ مجھے ساتھ لے کر نہیں جا سکے گا، میں بابا کی طرح کمانڈو بنوں گا اور اس باگڑ بلے کو مار دونگا، امی آپ خوش ہو جائیں گی نا؟ پھر بابا بھی واپس آ جائیں گے نا؟ اس کے معصوم سادہ سوالوں پر آنکھوں میں نمی اور لبوں پر ہنسی کے ساتھ میں اسے اپنے سے لگا لیتی،وہ جب اپنے بابا کی ٹوپی پہن کر آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا،مجھے سلوٹ کرتا، سلام کرتا اور ماتھے پر آکر بوسہ دیتا تو اکثر کہا کرتا تھا، جب میں بھی بابا کی طرح فوجی بنوں گا تو سارے باگڑ بلوں کو مار دوں گا، پھر کوئی کسی بچے کو تنگ نہیں کرے گا، (مگر وہ ننھا سپاہی اس گھڑی سے قبل ہی شہید ہوگیا، وہ آئے اور کوئی گرم چیز اس کے سر میں اتار کر چلے گئے اور وہ ابدی نیند سو گیا، افسوس کہ وہ اوتھ نہ اٹھا سکا کہ "میں خلوص نیت سے حلف اٹھاتا ہوں کہ پاکستان کو کسی بھی اندورنی اور بیرونی خطرے سے بچانے کیلئے اپنی جان قربان کردونگا") افسوس کہ اس حلف سے پہلے ہی اس نے اپنی جان، جان آفریں کے سپرد کردی۔
میرا ننھا سپاہی اپنی سالگرہ پر مجھ سے بندوق کی فرمائش کرتا کہ مجھے بھی بابا کی طرح سب بچوں کی جانیں بچانی ہیں،مجھے سب باگڑ بلوں کو مارنا ہے،وہ بچوں کو تنگ کرتے ہیں، میں بابا کی طرح بہادر بنوں گا اور سب بچوں کو بچاؤں گا۔ کتنے ہی موسم اس کی ننھی شرارتوں اور معصوم باتوں کو سنتے گزر گئے اور پھر وہ موسم بھی آگیا، جب فضا میں خون اتر آیا، جب ہواؤں میں لہو کی بو محسوس ہونے لگی۔
وہ بھی ایک سرد صبح تھی، وہ حسب معمول اپنے سوالوں سے مجھے تنگ کر رہا تھا، آج اس کا پیپر تھا، آج ہوا کے تیور بھی کچھ الگ ہی لگ رہے تھے، سردیوں میں اسے ہمیشہ سے سوئٹر سے الجھن ہوتی تھی، زبردستی سوئٹر پہناتی، ناشتہ کراتی اور اتنے میں اس کی وین آجاتی اور وہ بھاگ کر چڑھ جاتا۔
اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میں اس دن بھی اس کو کہتی ہی رہ گئی، مگر اس نے ایک نہ سنی، آج سردی بہت زیادہ ہے، آج موسم کا رنگ بھی جدا تھا، آج کچھ عجیب لگ رہا ہے، دیکھوں اچھے بچے امی کو تنگ نہیں کرتے، چلو شاباش سوئٹر پہن کر جاؤں۔
مگر وہ ازل سے سوئٹر سے بیزار بات مانے بغیر ہی وین کی جانب لپکا اور وہ نیا کا نیا سوئئٹر ہمیشہ کیلئے نیا ہی رہ گیا، اس دن جانے کیوں، دل عجیب بوجھل تھا، میں وہی دور تک وین کو دیکھتی رہی اور دروازے پھر ہی بیٹھی رہی کہ پیپر جلد ختم ہوگا اور پھر وہ تھوڑی دیر میں واپس آجائے گا، پاگل ماں کو کیا انداز تھا کہ وہ تو اسکول سے سیدھا جنت چلا جائے گا اور مجھے ہمشیہ اب اس کا انتطار ہی رہے گا، میں کواڑ پکڑے آنگن میں بیٹھ گئی۔
Sسورج طلوع ہوا تو اپنے ساتھ ان گنت غم لے کر آیا،وہ اس دن اسکول تو گیا مگر واپس ہی نہ آیا،اور پھر وہ باگڑ بلے اسکول میں گھس آئے، کوئی پانچ چھ یاد نہیں، یاد ہے تو اتنا ہی کہ انہوں نے میرے ننھے سپاہی کو سنبھالنے کا موقع ہی نہ دیا اور گولیوں سے بھون ڈالا، کوئی گولی سر میں لگی تو کوئی منہ میں، بس وہ پھولوں پر قہر برساتے رہے اور جنازے تیار ہونے لگے۔
sماؤں نے اپنے راج دلاروں کو تیار کرکے اسکول تو بھیجا،مگر وہ کیا جانتی تھیں کہ جگر گوشے پھر لوٹ کے نہ آئیں گے، قربستان سے آنے والے بھڑیئے، اسکول کو ہی قبرستان بنا کر چلے گئے،مگر میری بدعا انہیں چین سے سونے نہیں دے گی، ہاں مگر نادان دل کو کیسے یہ سمجھاؤں کہ انہیں تو مارنے سے ہی چین ملتا ہے، میں نے زندگی میں جنازوں پر پھول تو دیکھے تھے، مگر اس دن پھولوں کا جنازہ پہلی بار دیکھا۔
Comments
Post a Comment